0

’اعزازات‘ کی سیاست کتنی اثردار؟: صبیح احمد

  • February 14, 2024

صبیح احمد

حکومت ہند کے ذریعہ عظیم شخصیات کو ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازے جانے کے بعد اکثر ایک بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس کے پیچھے احترام اور اظہار تشکر کا جذبہ کم اور اس میں سیاسی زاویہ زیادہ ہوتا ہے۔ کچھ حد تک اس میں سچائی بھی ہوتی ہے۔ چونکہ یہ حکومت وقت کی صوابدید پر ہوتا ہے کہ وہ کس کو اس اعزاز سے نوازنے کے لائق سمجھتی ہے، اس لیے ا س حقیقت سے مکمل طور پر انکار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ مکمل سچ بھی نہیں ہے کہ حکومت جس کو چاہے، آنکھ موند کر اس اعزاز سے نواز دے۔ اس اعزاز کے لیے متعلقہ شخص کی مجموعی عوامی خدمات اور نمایاں کارکردگی کو بہرحال پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ ’بھارت رتن‘ ملک کا سب سے بڑا شہری اعزاز ہے۔ پہلے یہ صرف فن، ادب، سائنس اور عوامی خدمت کے لیے دیا جاتا تھا، بعد میں قوانین میں ترمیم کرکے اسے دوسرے شعبوں کی سرکردہ ہستیوں کو بھی دیا جانے لگا ہے۔ حالانکہ ملک کا یہ سب سے بڑا شہری اعزاز کئی بار سوالوں کی زد میں بھی رہا ہے، خاص طور پر سیاست دانوں کو یہ ایوارڈ دیے جانے کے پیچھے کارفرما حکومت کی نیت کے حوالے سے۔
مودی حکومت کی طرف سے ایک ہی سال میں 5 نامور شخصیات کو اس اعزاز سے نوازے جانے کے حالیہ اعلان کے بعد مذکورہ بیانیہ ایک بار پھر گردش میں ہے۔ دراصل لوک سبھا انتخابات سے عین قبل جس طرح اس اعلیٰ ترین اعزاز کا اعلان کیا گیا ہے، اس کے پیچھے کا مقصد بی جے پی کے حق میں ووٹ حاصل کرنا بتایا جارہا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ایک ساتھ سابق وزرائے اعظم پی وی نرسمہا راؤ (1991-96)، چودھری چرن سنگھ (جولائی 1979سے جنوری 1980) اور سبز انقلاب کے علمبردار ڈاکٹر ایم ایس سوامی ناتھن کو ملک کے سب سے بڑے شہری اعزاز ’بھارت رتن‘ سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل اسی ماہ وزیراعظم نے 3 فروری کو سینئر بی جے پی لیڈر ایل کے اڈوانی اور گزشتہ ماہ او بی سی تحفظات کے علمبردار اور بہار کے سابق وزیراعلیٰ کرپوری ٹھاکر کے لیے ’بھارت رتن‘ دینے کا اعلان کیا تھا۔ یہ اعلانات خصوصی توجہ کے طالب ہیں کیونکہ یہ لوک سبھا انتخابات سے بمشکل چند ماہ قبل کیے گئے ہیں۔
ڈاکٹر سوامی ناتھن اور چودھری چرن سنگھ کو بھارت رتن سے نواز کر حکومت یہ اشارہ دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ اسے کسانوں اور زراعت کا بہت خیال ہے۔ چرن سنگھ کا شمار ملک کے بڑے جاٹ لیڈروں میں ہوتا ہے۔ چرن سنگھ کے لیے یہ اعزاز جہاں بی جے پی کی جاٹ لیڈر کے پوتے کی زیر قیادت آر ایل ڈی تک کامیاب رسائی تصور کی جاتی ہے ، وہیں اس کا مقصد یوپی میں اپوزیشن اتحاد ’انڈیا‘ کو دھچکا لگانا بھی ہے۔ آر ایل ڈی ریاست میں اپوزیشن اتحاد کا ایک اہم حصہ رہا ہے لیکن اب وہ بی جے پی کے ساتھ لوک سبھا الیکشن لڑنے کے لیے تیار ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ بھارت رتن کے اعلان کے بعد جینت کا فوری ردعمل یہ تھا کہ وزیراعظم کے اعلان نے ’ان کا دل جیت لیا‘، اور بعد میں نامہ نگاروں کے سامنے یہاں تک کہہ دیا کہ ان کے پاس اب آر ایل ڈی کے این ڈی اے میں شامل ہونے کے امکان سے انکار کرنے کا منھ نہیں ہے۔ اس کے بعد پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس میں برسراقتدار خیمہ میں شامل ہونے کے ساتھ ساتھ اب انہوں نے باضابطہ این ڈی اے میں شامل ہونے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ نرسمہا راؤ کے لیے یہ اعزاز اور زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے یہ پیغام دینا ہے کہ کانگریس نے برسوں تک اپنے ایک قابل ترین منتظم کو نظرانداز کیا، ایک ایسا شخص جس نے ملک کو شدید مالیاتی بحران سے نکالا اور اقتصادی ترقی کی راہ پر گامزن کیا، صرف اس لیے کہ ان کے سونیا گاندھی سے اختلافات تھے۔ اس نکتے کی بھی نشاندہی کرنی تھی جس کا وزیراعظم نے اس ہفتہ پارلیمنٹ میں ذکر کیا تھا کہ جہاں بی جے پی ملک کو سب سے اوپر رکھتی ہے، وہیں کانگریس کے لیے نہرو-گاندھی خاندان ہمیشہ پہلے آتا ہے۔ ایودھیا میں رام مندر کے ’پران پرتشٹھا‘ کے فوراً بعد نرسمہاراؤ کے لیے بھارت رتن کا اعلان کافی اہمیت کا حامل ہے۔ کانگریس پر بابری مسجد کے انہدام کا الزام راؤ پر ڈالنے کا الزام لگایا جاتا رہا ہے، جو اس وقت وزیر اعظم تھے۔
لال کرشن اڈوانی کے لیے بھارت رتن وزیراعظم مودی کا قابل ذکر فیصلہ تھا۔ بی جے پی کے 96 سالہ رہنما کے ساتھ مودی کے پیچیدہ رشتوں کے حوالے سے یہ فیصلہ کافی اہم ہے۔ بہرحال رام مندر کو حقیقت بنانے میں بطور بی جے پی صدر(اس وقت کے) اڈوانی کے کردار کا اعتراف بھی ہے۔ یہ اڈوانی ہی ہیں جنہوں نے پارٹی کے ایجنڈے میں رام جنم بھومی تحریک کو سب سے آگے رکھا۔ اڈوانی کے لیے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کو انتخابات سے قبل مندر پر بی جے پی کے بیانیہ میں حصہ ڈالنے کی کامیاب کوشش کہی جا سکتی ہے۔ کرپوری ٹھاکر کے لیے یہ اعزاز ایک ایسے وقت میں آیا جب اپوزیشن ذات پر مبنی مردم شماری کے اپنے مطالبہ کے سہارے رام مندر کے بعد کے ہندوتو کے جوش کو بی جے پی کے حق میں کم کرنے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔ اس شخص کو اعزاز جسے نتیش کمار اور لالو پرساد اپنا سیاسی گرو مانتے ہیں، لیکن سماجی انصاف کے لیے جس کی خدمات کو کانگریس نے کبھی تسلیم نہیں کیا،کا مقصد بی جے پی کی خاص طور پر بہار اور یوپی میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ہمدردی اور فکرمندی کا اشارہ دینا تھا۔ اس اعلان کے چند دن بعد بہار کے وزیراعلیٰ نتیش کمار نے جنہوں نے ذات پر مبنی مردم شماری کے مطالبہ کی قیادت کی تھی اور اپنی ریاست میں ذاتوں کا سروے کرایا تھا، اپنی وفاداری تبدیل کر کے اب این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔
اعزاز یافتگان کی خدمات کو سراہنے کے ساتھ ساتھ پدم اور بھارت رتن اعزازات ہمیشہ سیاسی پیغام رسانی کے آلہ کار رہے ہیں اور نریندر مودی حکومت اس طرح کا انتخاب کرنے میں خاص طور پر ہوشیار رہی ہے۔ ان پانچوں سرکردہ ہستیوں کے اعلان سے پہلے مودی حکومت نے اپنی 2 مدت کار میں 5 دیگر شخصیات کو بھی اس اعزاز سے نوازا ہے۔ ان میں پنڈت مدن موہن مالویہ، سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپئی، سابق صدر جمہوریہ اور سینئر کانگریسی لیڈر پرنب مکھرجی، آسامی موسیقار بھوپین ہزاریکا اور آر ایس ایس لیڈر نانا جی دیشمکھ شامل ہیں۔ اس بار بھی اس اعزاز کی ٹائمنگ اور اہل امیدواروں کے انتخاب کے تناظر میں ایک بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ کرپوری ٹھاکر کی شکل میں پہلی بار ملک میں کسی انتہائی پسماندہ ذات سے تعلق رکھنے والے شخص کو سب سے بڑے اعزاز سے نوازا گیا ہے، جبکہ اڈوانی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ کبھی حاشیہ پر رہنے والی بی جے پی ان کی جرأت مندانہ کوششوں کی وجہ سے ہی آج دہلی کے تخت پر قابض ہے۔
بلاشبہ اس میں پوشیدہ سیاسی پیغام یہ ہے کہ ان بھارت رتنوں کے ذریعہ مودی حکومت نے بہار سمیت ملک کی دیگر ریاستوں میں بھی انتہائی پسماندہ ذاتوں اور اڈوانی کے ذریعہ سخت گیر ہندوتووادی ووٹوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ ’بھارت رتن‘ دیے جانے کی خوشی کہیں نہ کہیں ووٹوں میں بدل سکتی ہے۔ توقع اور قیاس کی سطح پر تو یہ بات درست ہوسکتی ہے، لیکن اگر ہندوستان میں گزشتہ 50 برسوں میں دیے جانے والے بھارت رتن اعزازات، اس اعزاز سے سرفراز ہونے والی ہستیوں اور اس اعزاز کے اعلان کے ایک سال کے اندر ملک میں ہونے والے لوک سبھا اور اسمبلی کے انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی جائے تو تصویر کچھ اور ہی نظر آتی ہے۔ زیادہ تر معاملات میں بھارت رتن کا اعلان کرنے والی حکمراں جماعت کو اس کا انتخابی فائدہ شاذ و نادر ہی ملا ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ الیکشن میں کامیاب بھی ہوئی ہے تو اس کی وجوہات دیگر ہیں، نہ کہ کسی خاص ذات، مذہب، ریاست یا کمیونٹی کے کسی فرد کو ’بھارت رتن‘ دینے کی وجہ سے۔
[email protected]


سوشل میڈیا پر ہمارے ساتھ جڑنے کے لیے یہاں کلک کریں۔
Click 👉 https://bit.ly/followRRS

Previous articleغزہ میں بد سے بدتر ہوتے حالات اور عالمی مسلم قیادت : قطب اللہ
Sabih Ahmed

#اعزازات #کی #سیاست #کتنی #اثردار #صبیح #احمد