0

جنگلات دہلی کے پھیپھڑے ہیں، ان کا تحفظ کیا جانا چاہئے: دہلی ہائی کورٹ

واضح رہے کہ ہائی کورٹ ہمانشو داملے اور ایک دیگر شخص کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت کر رہا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ قدیم یادگاروں، خاص طور پر مہرولی میں عاشق اللہ کی درگاہ کو انہدام سے بچایا جائے۔ درخواست گزاروں نے کہا کہ درگاہ 1317 عیسوی کی ہے اور یہ ملک کے قدیم ترین اور اہم ترین سلاطینی دور کے ڈھانچوں میں سے ایک ہے اور اس میں 13ویں صدی کے صوفی بزرگ بابا فرید کی چلّہ گاہ بھی شامل ہے۔

حالانکہ درگاہ کی تصاویر کو دیکھ کر بنچ نے کہا کہ یہ وہاں کے ڈھانچے پر نصب نئی ٹائلیں ہیں اور اسے ایک سیاحتی مقام کے طور پر تیار کیا گیا ہے، جہاں زیادہ سے زیادہ لوگ آتے ہیں۔ اس کے جواب میں درخواست گزاروں کے وکیل نے کہا کہ اگر کسی چیز کا استعمال سینکڑوں سالوں سے عبادت گاہ کے طور پر کیا جاتا رہا ہے تو ظاہری طور پر اس میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ درخواست گزاروں کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ وہ 800 سال پرانے مقامات کی بات کر رہے ہیں اور وہ ان جنگلات سے پرانے ہیں لیکن بنچ نے اس سے اتفاق نہیں کیا اور کہا کہ یہ انتہائی غیر منصفانہ ہے۔‘‘

#جنگلات #دہلی #کے #پھیپھڑے #ہیں #ان #کا #تحفظ #کیا #جانا #چاہئے #دہلی #ہائی #کورٹ