0

نئی حکومت اور کرنے کے کام

  • February 18, 2024

نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہوں گے، اس کے بارے میں ارکانِ پارلیمنٹ اچھی طرح آگاہ ہیں۔ فوٹو فائل

نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہوں گے، اس کے بارے میں ارکانِ پارلیمنٹ اچھی طرح آگاہ ہیں۔ فوٹو فائل

پاکستان میں عام انتخابات کے نتائج آنے کے بعد جہاں نئی حکومت بنانے کے لیے کوششیں جاری ہیں، وہیں انتخابی نتائج کو متنازعہ بنانے کی مہم بھی پورے زور و شور کے ساتھ جاری ہے۔

بہرحال اس قسم کی باتیں اور کوششیں ہر الیکشن کے دوران اور نتائج آنے کے بعد ہمیشہ سے ہوتی آ رہی ہیں۔ 29 فروری تک قومی اسمبلی کا اجلاس ہونا لازم ہے، اس کے بعد اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور وزیراعظم کا انتخاب عمل میں آ جائے گا۔ ساتھ ہی نئے صدر کا الیکشن بھی ہو جائے گا۔ یوں پارلیمانی بزنس کا آغاز ہو جائے گا۔

نئی حکومت کو کیا چیلنجز درپیش ہوں گے، اس کے بارے میں ارکانِ پارلیمنٹ اچھی طرح آگاہ ہیں۔ ملک کا فہمیدہ حلقہ بھی اچھی طرح جانتا ہے کہ نئی حکومت کے لیے بڑے چیلنجز کون کون سے ہیں۔ اس حوالے سے کسی کو کوئی ابہام نہیں ہے۔

محض معیشت کو سنبھالا دینا اور آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنا ہی بڑا چیلنج نہیں ہے بلکہ ملک کے اندر جو قوتیں انتشار اور گھیراؤ جلاؤ کر کے ریاستی سسٹم کو مفلوج کرنا چاہتی ہیں، ان کی ہینڈلنگ بھی نئی حکومت کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اس کے علاوہ دہشت گردوں کے سہولت کاروں، فنانسرز اور ماسٹرمائنڈز کا مقابلہ کرنا بھی نئی حکومت کے لیے بہت بڑا چیلنج ہو گا۔

نئی حکومت خارجہ امور کو کس حکمت عملی سے ہینڈل کرتی ہے، یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے، نئی حکومت ماضی کے رومانٹسزم اور خودفریبی پر مبنی مائنڈسیٹ کو ترک کر کے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر ایک ریشنل خارجہ اور داخلہ پالیسی ترتیب دے پاتی ہے یا نہیں، یہ بھی دیکھنے کی بات ہے۔

بہرحال نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی گزشتہ روز کراچی میں کہی گئی یہ بات درست ہے کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کے لیے بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور کاروباری برادری کو تمام سہولتیں مہیا کرنا حکومت کی اولین ترجیح رہی ہے۔

بلاشبہ نئی حکومت کو اس جانب بھرپور توجہ دینی ہو گی اور معیشت کے بنیادی اصول پر عمل پیرا ہو کر مثبت نتائج حاصل کرنے کی کوشش کرنی ہو گی۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں مڈل کلاس کا حجم بڑھانے کے لیے اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ان صوبوں کے عوام پرانے نظام پر قابض طاقتور طبقے کی گرفت سے آزادی حاصل کر سکیں۔

پاکستان میں پاپولر سیاسی جماعتوں کی قیادت کو بھی خوداحتسابی کے عمل سے گزرنا ہو گا۔ یہ حقیقت تسلیم کرنی ہو گی کہ پاپولر سیاسی جماعتیں انتہاپسندی کے حوالے سے سنجیدہ حکمت عملی نہیں بنا سکے۔

مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے جن اقدامات کی ضرورت تھی، پاپولر جماعتوں کی قیادت نے اس بارے میں لاتعلقی اور بیگانگی کے رویے کا مظاہرہ کیا ہے، سیاسی قیادت کی ترجیحات میں انتہاپسندی اور دہشت گردی انتہائی نچلی سطح پر رہی ہے جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ انتہاپسندی ایک وباء کی طرح تعلیمی اداروں سے لے کر سرکاری اداروں تک میں پھیل گئی۔ یوں پاکستان کا پورا ریاستی ڈھانچہ جدت پسندی سے محروم ہو گیا۔

اس کے اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا پاکستان ایسے بھنور میں پھنسا ہوا ہے جہاں سے بحفاظت نکلنا ایک معجزے سے کم نہیں ہو گا۔ کسی سیاسی جماعت میں مختلف ایشوز پر اپنے تھنک ٹینکس بنانے کا کلچر نہیں ہے۔

مسلم لیگ (ن) ہو، پیپلزپارٹی ہو یا تحریک انصاف، ان پارٹیوں کی قیادت نے معیشت، سیاست اور معاشرت کی مبادیات کو جاننے اور پرکھنے کے لیے کوئی تھنک ٹینک نہیں بنایا۔ حالانکہ امریکا میں ریپبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹک پارٹی کے اپنے تھنک ٹینک ہیں جو اپنی پارٹی کی حکومت کا کام آسان بنانے کے لیے ان کی مدد کرتے ہیں۔

بھارت میں انڈین نیشنل کانگریس اور بی جے پی جیسی بڑی پارٹیوں کے بھی اپنے تھنک ٹینک ہیں۔ پاکستان کی پاپولر جماعتوں کی قیادت نے اس جانب کبھی کام نہیں کیا۔ یہ جمہوریت کی نہیں بلکہ تمام سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے۔ اچھی معاشیات کے بطن سے اچھی سیاست جنم لیتی ہے، اسی طرح اچھی سیاست سے اچھی معاشیات جنم لے گی۔ اسی کی بنیاد پر جمہوریت پروان چڑھے گی اور ملک میں آئین اور قانون کی حکمرانی قائم ہو گی۔ لیکن پاکستان کی پاپولر سیاسی جماعتوں نے کبھی اس کی فکر نہیں کی۔

پاکستان کی معیشت قرضوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے۔ اس میں اندرونی اور بیرونی دونوں طرح کے قرضے شامل ہیں۔ پاکستان کی زراعت اور صنعت کی ترقی کا عمل انتہائی سست رفتار ہے۔ کئی بڑی صنعتیں حکومتی سبسڈی پر چل رہی ہیں۔ اسٹیٹ بینک اپنی رپورٹس میں اعداد وشمار جاری کرتا رہتا ہے۔

جب نگران حکومت آئی تو یہ سوچ پروان چڑھی کہ اب وہ فیصلے کیے جائیں گے جو ملک اور معیشت کے لیے درست ہوں گے، اس عرصے کے دوران سخت فیصلے بھی کیے گئے ہیں جن کی وجہ سے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کے معاملات بہتر ہوئے اور ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا۔ گو ابھی مشکلات بہت زیادہ ہیں۔ سب سے کم بجٹ صحت اور تعلیم کے لیے مختص کیا جاتا ہے حالانکہ یہ بجٹ کہیں زیادہ ہونا چاہیے۔

یہ بات بھی ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اگر سیاست کی سمت درست نہیں ہو گی تو ملک کا معاشی پہیہ جمود کا شکار ہو گا۔ ایک عام پاکستانی کو اب اپنے ہی ملک میں اپنا مستقبل محفوظ نظر نہیں آتا۔ قانونی اور غیر قانونی‘ ہر طرح کے راستے سے لوگ باہر جانے کی کوشش میں ہیں۔

ملک میں مہنگائی کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں ہی بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لیے نگران حکومت کو توانائی کی قیمتیں بڑھانی پڑ رہی ہیں۔ بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں روز بروز اضافے نے سفید پوش طبقے کی قوت خرید میں زبردست کمی آئی ہے۔ چھوٹے کاروبار بھی متاثر ہو رہے ہیں۔

جو بھی نئی حکومت آتی ہے اس کا ایک ہی نعرہ ہوتا ہے، اب پاکستان کی معیشت مستحکم ہوگی، مہنگائی پر کنٹرول کیا جائے گا لیکن عملی طور پر کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ معیشت سنبھالنے کے جو بھی اقدامات اٹھائے جاتے ہیں، اس سے عوام پر معاشی بوجھ میں اضافہ ہوا۔ گوشت اور چاول جیسی ضروری اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کئی بار دگنے سے بھی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

پاکستان میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ بہت سے لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہے۔ اگرچہ حکومت کے ایندھن پر ٹیکس بڑھانے کے فیصلے کی جائز وجوہات ہیں، لیکن یہ ضروری ہے کہ شہریوں اور کاروبار پر پڑنے والے منفی اثرات کو کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات کیے جائیں جن کی وجہ سے متوسط طبقے پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو سکے۔

آج پاکستان کا بچہ بچہ قرض کے بوجھ تلے دب چکا ہے، بلکہ آنے والی نسلیں بھی قرض میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ افراطِ زر میں تیزی سے اضافے سے ملکی معیشت کا ہر شعبہ، صنعت، تجارت اور خدمات سب متاثر ہوئے اور معاشی ترقی کی شرح یعنی مقامی پیداوار (جی ڈی پی) منفی زون میں چلی گئی۔

قرضوں، تجارتی خسارے اور افراط زر کے اردگرد مرکوز رکاوٹوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں ادائیگیوں کے توازن کا جو بحران دکھائی دے رہا ہے وہ دراصل حکمرانی کا بحران ہے۔ یکے بعد دیگرے آنے والی حکومتیں ہنر مند، صحت مند اور تعلیم یافتہ افرادی قوت تیار کرنے میں درکار سرمایہ کاری کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ اس کے بجائے انھوں نے طاقتور گروہوں کی حمایت جاری رکھی، اپنے ذاتی مفادات کو تقویت دی۔

موجودہ بحرانوں کا تریاق سب کو معلوم ہے، مسئلہ ذاتی اور گروہی مفادات کے بجائے عوام کے مفادات کو ترجیح دینے کا ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لیے نظریاتی اور عملی میدان میں واضح اور دوٹوک نکتہ نظر اپنا کر آگے بڑھنا انتہائی ضروری ہے۔ گومگو، مبہم اور کنفیوژ نظریات کے ساتھ کوئی بھی حکومت پاکستان کو بحران سے باہر نہیں نکال سکتی۔

پاکستان کو خسارے میں چلنے والے حکومتی اداروں کی نجکاری کے بجائے ان کی بحالی پر توجہ دینا ہو گی۔ یہ معاشی نظریہ کہ ریاست کاروبار نہیں کرتی، پورا معاشی سچ نہیں۔ ریاست کے نظام کو چلانے اور عوام کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لیے ریاست اور حکومت کاروبار اور سرمایہ کاری بھی کرتی ہے۔ ایجوکیشن، ہیلتھ اور ٹرانسپورٹ ایسے شعبے ہیں جہاں حکومت کو لازمی طور پر کاروباری کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

یورپ کے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی ان شعبوں میں حکومتی عملداری ہوتی ہے۔ اشرافیہ سے وصولی اور عوام پر خرچ کرکے محرومیوں میں کمی لائی جا سکتی ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ بالواسطہ ٹیکسوں کی وصولی پر کلیتاً انحصار نہ کیا جائے بلکہ براہ راست ٹیکس لگانے کی ضرورت ہے۔

ٹیکس اصلاحات میں تاخیر نہ کی جائے حکومت کی کم آمدنی والے طبقے کو مراعات اور سہولیات صرف اس تک محدود نہیں کر پارہی ہے بلکہ ان مراعات سے اشرافیہ بھی مستفید ہو رہی ہے، ان مسائل نے سماج میں عدم توازن میں مزید اضافہ کر دیا ہے، چنانچہ ضرورت اس امر کی ہے کہ محصولات کے نظام کی اصلاح کی جائے اور حقدار طبقے ہی کو سبسڈی ملنی چاہیے محصولات کے نظام میں اصلاح اور معقول اصلاحات ہی ڈوبتی معیشت کو سنبھالا دے سکتی ہے۔


#نئی #حکومت #اور #کرنے #کے #کام